صحیح مسلم — باب ۴۴The Book of the Merits of the Companions
۳۳۱ احادیث (نمبر ۶۱۶۹ تا ۶۴۹۹) (صفحہ 6) — عربی متن اور اردو ترجمہ۔
حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الْعَتَكِيُّ، وَخَلَفُ بْنُ هِشَامٍ، وَأَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ كُلُّهُمْ عَنْ حَمَّادِ، بْنِ زَيْدٍ - قَالَ أَبُو الرَّبِيعِ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، - حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ رَأَيْتُ فِي الْمَنَامِ كَأَنَّ فِي يَدِي قِطْعَةَ إِسْتَبْرَقٍ وَلَيْسَ مَكَانٌ أُرِيدُ مِنَ الْجَنَّةِ إِلاَّ طَارَتْ إِلَيْهِ - قَالَ - فَقَصَصْتُهُ عَلَى حَفْصَةَ فَقَصَّتْهُ حَفْصَةُ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " أَرَى عَبْدَ اللَّهِ رَجُلاً صَالِحًا " .
نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : میں نے خواب میں دیکھا کہ میرے ہاتھ میں باریک ریشم کا ایک ٹکڑا ہے اور جنت میں کو ئی بھی جگہ جہاں میں جا نا چاہ رہا ہوں ، وہ مجھے اڑا کر وہاں لے جا تا ہے ۔ کہا : میں نے یہ خواب حضرت حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو بتا یا حضرت حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " میں عبد اللہ ( ابن عمر ) کو ایک نیک آدمی دیکھتا ہوں ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، - وَاللَّفْظُ لِعَبْدٍ - قَالاَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ، الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ كَانَ الرَّجُلُ فِي حَيَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا رَأَى رُؤْيَا قَصَّهَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَتَمَنَّيْتُ أَنْ أَرَى رُؤْيَا أَقُصُّهَا عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ وَكُنْتُ غُلاَمًا شَابًّا عَزَبًا وَكُنْتُ أَنَامُ فِي الْمَسْجِدِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَرَأَيْتُ فِي النَّوْمِ كَأَنَّ مَلَكَيْنِ أَخَذَانِي فَذَهَبَا بِي إِلَى النَّارِ فَإِذَا هِيَ مَطْوِيَّةٌ كَطَىِّ الْبِئْرِ وَإِذَا لَهَا قَرْنَانِ كَقَرْنَىِ الْبِئْرِ وَإِذَا فِيهَا نَاسٌ قَدْ عَرَفْتُهُمْ فَجَعَلْتُ أَقُولُ أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ النَّارِ أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ النَّارِ أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ النَّارِ - قَالَ - فَلَقِيَهُمَا مَلَكٌ فَقَالَ لِي لَمْ تُرَعْ . فَقَصَصْتُهَا عَلَى حَفْصَةَ فَقَصَّتْهَا حَفْصَةُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " نِعْمَ الرَّجُلُ عَبْدُ اللَّهِ لَوْ كَانَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ " . قَالَ سَالِمٌ فَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ بَعْدَ ذَلِكَ لاَ يَنَامُ مِنَ اللَّيْلِ إِلاَّ قَلِيلاً .
زہری نے سالم سے ، انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ میں جو شخص کو ئی خواب دیکھتا تو وہ اس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بیان کرتا ، میری بھی آرزوتھی کہ میں بھی کو ئی خواب دیکھوں اور اس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بیان کروں ۔ میں ایک غیر شادی شدہ نو جوان تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانےمیں مسجد میں سویا کرتا تھا ، میں نے خواب میں دیکھا کہ جیسے دوفرشتوں نے مجھے پکڑا اور جہنم کی طرف لے گئے ۔ میں نے دیکھا کہ دوزخ کے کنارے پر کنویں کی منڈیر کی طرح تہ در تہ منڈیر بنی ہو ئی ہے اور اس کے دو ستون ہیں جس طرح کنویں کے ستون ہو تے ہیں اور اس کے اندر لو گ ہیں جن کو میں پہچانتا ہوں تو میں نے کہنا شروع کر دیا ۔ میں آگ سے اللہ کی پناہ میں آتا ہوں ، میں آگ سے اللہ کی پناہ میں آتا ہوں آگ سے اللہ کی پناہ میں آتا ہوں ۔ کہا : تو ان دونوں فرشتوں سے ایک اور فرشتہ آکر ملا ، اس نے مجھ سے کہا : تم مت ڈرو ۔ میں نے یہ خواب حضرت حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے بیان کیا ، حضرت حفصہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " عبد اللہ خوب آدمی ہے! اگر یہ رات کو اٹھ کر نماز پڑھا کرے ۔ " سالم نے کہا : اس کے بعد حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ رات کو بہت کم سوتے تھے ۔ ( زیادہ وقت نماز پڑھتے تھے ۔)
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ، أَخْبَرَنَا مُوسَى بْنُ خَالِدٍ، خَتَنُ الْفِرْيَابِيِّ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ الْفَزَارِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ كُنْتُ أَبِيتُ فِي الْمَسْجِدِ وَلَمْ يَكُنْ لِي أَهْلٌ فَرَأَيْتُ فِي الْمَنَامِ كَأَنَّمَا انْطُلِقَ بِي إِلَى بِئْرٍ . فَذَكَرَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمَعْنَى حَدِيثِ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِيهِ .
عبید اللہ بن عمر نے نافع سے ، انھوں نے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : میں را ت کو مسجد میں سوتا تھا ( اس وقت ) میرے اہل وعیال نہ تھے میں نے خواب میں دیکھا کہ جیسے مجھے ایک کنویں کی طرف لے جا یا گیا ہے پھر انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی حدیث کےہم معنی بیان کیا جو زہری نے سالم سے اور انھوں نے اپنے والد ( عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) سے بیان کی ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، سَمِعْتُ قَتَادَةَ، يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسٍ، عَنْ أُمِّ سُلَيْمٍ، أَنَّهَا قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ خَادِمُكَ أَنَسٌ ادْعُ اللَّهَ لَهُ فَقَالَ " اللَّهُمَّ أَكْثِرْ مَالَهُ وَوَلَدَهُ وَبَارِكْ لَهُ فِيمَا أَعْطَيْتَهُ " .
محمد بن جعفر نے کہا : ہمیں شعبہ نے حدیث سنائی ، انھوں نے کہا : میں نے قتادہ سے سنا ، وہ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث بیان کررہے تھے ، انھوں نے حضرت ام سلیم رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، انھوں نے کہا : اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !انس آپ کا خادم ہے آپ اس کے لیے اللہ سے دعا کیجئے تو آپ نے کہا : : " اے اللہ !اس کے مال اور اولاد کو زیادہ کر اور اس کو جو کچھ تو نے عطا کیا ہے ، اس میں برکت عطافر ما
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، سَمِعْتُ أَنَسًا، يَقُولُ قَالَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ خَادِمُكَ أَنَسٌ . فَذَكَرَ نَحْوَهُ .
ابو داود نے کہا : ہمیں شعبہ نے قتادہ سے حدیث بیان کی ، میں نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو کہتے ہو ئے سنا ، حضرت ام سلیم رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے عرض کی : اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !انس آپ کا خادم ہے ، پھر اسی طرح بیان کیا ( جس طرح پچھلی حدیث میں ہے)
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدٍ، سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ مِثْلَ ذَلِكَ .
محمد بن جعفر نے کہا : ہمیں شعبہ نے ہشام بن زید سے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اسی طرح کہتے ہوئے سنا ( جس طرح پچھلی حدیث میں ہے)
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ دَخَلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَلَيْنَا وَمَا هُوَ إِلاَّ أَنَا وَأُمِّي وَأُمُّ حَرَامٍ خَالَتِي فَقَالَتْ أُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ خُوَيْدِمُكَ ادْعُ اللَّهَ لَهُ - قَالَ - فَدَعَا لِي بِكُلِّ خَيْرٍ وَكَانَ فِي آخِرِ مَا دَعَا لِي بِهِ أَنْ قَالَ " اللَّهُمَّ أَكْثِرْ مَالَهُ وَوَلَدَهُ وَبَارِكْ لَهُ فِيهِ " .
ثابت نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ہاں تشریف لا ئے ، اس وقت گھر میں صرف میں میری والدہ اور میری خالہ ام حرا م رضی اللہ تعالیٰ عنہا تھیں ، میری والدہ نے کہا : اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! انس آپ کا چھوٹاسا خادم ہے آپ اس کے لیے اللہ سے دعا کیجئے ۔ آپ نے میرے لیے ہر بھلا ئی کی دعا کی ، آپ نے میرے لیے جو دعاکی اس کے آخر میں آپ نے فر ما یا : " اے اللہ !اس کے مال اور اولاد کو زیادہ کر اور اس کو برکت عطافر ما
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنِي أَبُو مَعْنٍ الرَّقَاشِيُّ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، حَدَّثَنَا أَنَسٌ، قَالَ جَاءَتْ بِي أُمِّي أُمُّ أَنَسٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَقَدْ أَزَّرَتْنِي بِنِصْفِ خِمَارِهَا وَرَدَّتْنِي بِنِصْفِهِ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا أُنَيْسٌ ابْنِي أَتَيْتُكَ بِهِ يَخْدُمُكَ فَادْعُ اللَّهَ لَهُ . فَقَالَ " اللَّهُمَّ أَكْثِرْ مَالَهُ وَوَلَدَهُ " . قَالَ أَنَسٌ فَوَاللَّهِ إِنَّ مَالِي لَكَثِيرٌ وَإِنَّ وَلَدِي وَوَلَدَ وَلَدِي لَيَتَعَادُّونَ عَلَى نَحْوِ الْمِائَةِ الْيَوْمَ .
اسحٰق نے کہا : مجھے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حدیث سنائی کہا : میری والدہ ام انس رضی اللہ تعالیٰ عنہا مجھے لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں ، انھوں نے اپنی آدھی اوڑھنی سے میری کمر پر چادر باندھ دی تھی اور اوڑھنی میرے شانوں پر ڈال دی تھی ۔ انھوں نے عرض کی : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ انیس ( انس کی تصغیر ) ہے میرا بیٹا ہے ، میں اسے آپ کے پاس لا ئی ہوں تا کہ یہ آپ کی خدمت کرے ، آپ اس کے لیےاللہ سے دعاکریں تو آپ نے فر ما یا : " اے اللہ !اس کے مال اور اولاد کو زیادہ کر ۔ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : اللہ کی قسم!میرا مال بہت زیادہ ہے اور آج میری اولاداور اولاد کی اولاد کی گنتی سو کے لگ بھگ ہے ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ، - يَعْنِي ابْنَ سُلَيْمَانَ - عَنِ الْجَعْدِ أَبِي عُثْمَانَ، قَالَ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، قَالَ مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَسَمِعَتْ أُمِّي أُمُّ سُلَيْمٍ صَوْتَهُ فَقَالَتْ بِأَبِي وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ أُنَيْسٌ . فَدَعَا لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثَلاَثَ دَعَوَاتٍ قَدْ رَأَيْتُ مِنْهَا اثْنَتَيْنِ فِي الدُّنْيَا وَأَنَا أَرْجُو الثَّالِثَةَ فِي الآخِرَةِ .
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( ہمارے گھر کے قریب سے ) گزرے میری والدہ ام سلیم رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے آپ کی آواز سنی انھوں نے کہا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میرے ماں باپ آپ پر قربان !یہ انیس ہے اس کے لیے دعا فر مائیے پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے لیے تین دعائیں کیں ۔ جن میں سے دو دعاؤں ( کی قبولیت ) کو میں نے دیکھ لیا اور تیسری ( کی قبولیت ) کے متعلق آخرت میں امید رکھتا ہوں ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ أَتَى عَلَىَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَنَا أَلْعَبُ مَعَ الْغِلْمَانِ - قَالَ - فَسَلَّمَ عَلَيْنَا فَبَعَثَنِي إِلَى حَاجَةٍ فَأَبْطَأْتُ عَلَى أُمِّي فَلَمَّا جِئْتُ قَالَتْ مَا حَبَسَكَ قُلْتُ بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِحَاجَةٍ . قَالَتْ مَا حَاجَتُهُ قُلْتُ إِنَّهَا سِرٌّ . قَالَتْ لاَ تُحَدِّثَنَّ بِسِرِّ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَحَدًا . قَالَ أَنَسٌ وَاللَّهِ لَوْ حَدَّثْتُ بِهِ أَحَدًا لَحَدَّثْتُكَ يَا ثَابِتُ .
ثابت نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث بیان کی کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لا ئے اس وقت میں لڑکوں کے ساتھ کھیل رہا تھا کہا : آپ نے ہم سب کو سلام کیا اور مجھے کسی کام کے لیے بھیج دیا تو میں اپنی والد ہ کے پاس تا خیر سے پہنچا ، جب میں آیا تو والدہ نے پو چھا : تمھیں دیر کیوں ہوئی ۔ ؟میں نے کہا : مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کا م سے بھیجا تھا ۔ انھوں نے پو چھا : آپ کا وہ کام کیا تھا؟ میں نے کہا : وہ ایک راز ہے ۔ میری والدہ نے کہا : تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا راز کسی پر افشانہ کرنا ۔ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : اللہ کی قسم! ثابت !اگر میں وہ راز کسی کو بتاتاتو تمہیں ( جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کے طلبگار ہو ) ضرور بتا تا ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ، حَدَّثَنَا عَارِمُ بْنُ الْفَضْلِ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ أَسَرَّ إِلَىَّ نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سِرًّا فَمَا أَخْبَرْتُ بِهِ أَحَدًا بَعْدُ . وَلَقَدْ سَأَلَتْنِي عَنْهُ أُمُّ سُلَيْمٍ فَمَا أَخْبَرْتُهَا بِهِ .
معتمر بن سلیمان نے کہا : میں نے اپنے والد سے سنا ، وہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث بیان کر رہے تھے ۔ ( کہ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک راز میں مجھے شریک کیا ۔ میں نے اب تک وہ راز کسی کو نہیں بتا یا میری والد ہ حضرت ام سلیم رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے اس کے متعلق پو چھا ، میں نے وہ راز ان کو بھی نہیں بتا یا ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ، مَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ لِحَىٍّ يَمْشِي أَنَّهُ فِي الْجَنَّةِ إِلاَّ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلاَمٍ .
عامر بن سعد نے کہا : میں نے اپنے والد کو یہ کہتے ہو ئے سنا ، میں نے حضرت عبد اللہ بن سلام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے علاوہ کسی زندہ چلتے پھرتے شخص کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ نہیں سنا ، بلا شبہ وہ جنت میں جا ئے گا ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى الْعَنَزِيُّ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَوْنٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ قَيْسِ بْنِ عُبَادٍ، قَالَ كُنْتُ بِالْمَدِينَةِ فِي نَاسٍ فِيهِمْ بَعْضُ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَجَاءَ رَجُلٌ فِي وَجْهِهِ أَثَرٌ مِنْ خُشُوعٍ فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ هَذَا رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ هَذَا رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ . فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ يَتَجَوَّزُ فِيهِمَا ثُمَّ خَرَجَ فَاتَّبَعْتُهُ فَدَخَلَ مَنْزِلَهُ وَدَخَلْتُ فَتَحَدَّثْنَا فَلَمَّا اسْتَأْنَسَ قُلْتُ لَهُ إِنَّكَ لَمَّا دَخَلْتَ قَبْلُ قَالَ رَجُلٌ كَذَا وَكَذَا قَالَ سُبْحَانَ اللَّهِ مَا يَنْبَغِي لأَحَدٍ أَنْ يَقُولَ مَا لاَ يَعْلَمُ وَسَأُحَدِّثُكَ لِمَ ذَاكَ رَأَيْتُ رُؤْيَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَصَصْتُهَا عَلَيْهِ رَأَيْتُنِي فِي رَوْضَةٍ - ذَكَرَ سَعَتَهَا وَعُشْبَهَا وَخُضْرَتَهَا - وَوَسْطَ الرَّوْضَةِ عَمُودٌ مِنْ حَدِيدٍ أَسْفَلُهُ فِي الأَرْضِ وَأَعْلاَهُ فِي السَّمَاءِ فِي أَعْلاَهُ عُرْوَةٌ . فَقِيلَ لِي ارْقَهْ . فَقُلْتُ لَهُ لاَ أَسْتَطِيعُ . فَجَاءَنِي مِنْصَفٌ - قَالَ ابْنُ عَوْنٍ وَالْمِنْصَفُ الْخَادِمُ - فَقَالَ بِثِيَابِي مِنْ خَلْفِي - وَصَفَ أَنَّهُ رَفَعَهُ مِنْ خَلْفِهِ بِيَدِهِ - فَرَقِيتُ حَتَّى كُنْتُ فِي أَعْلَى الْعَمُودِ فَأَخَذْتُ بِالْعُرْوَةِ فَقِيلَ لِيَ اسْتَمْسِكْ . فَلَقَدِ اسْتَيْقَظْتُ وَإِنَّهَا لَفِي يَدِي فَقَصَصْتُهَا عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " تِلْكَ الرَّوْضَةُ الإِسْلاَمُ وَذَلِكَ الْعَمُودُ عَمُودُ الإِسْلاَمِ وَتِلْكَ الْعُرْوَةُ عُرْوَةُ الْوُثْقَى وَأَنْتَ عَلَى الإِسْلاَمِ حَتَّى تَمُوتَ " . قَالَ وَالرَّجُلُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلاَمٍ .
معاذ بن معاذ نے کہا : ہمیں عبداللہ بن عون نے محمد بن سیرین سے حدیث بیان کی ، انھوں نے قیس بن عباد سے روایت کی ، کہا : میں مدینہ منورہ میں کچھ لوگوں کےساتھ تھا جن میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین بھی تھے ، پھر ایک شخص آیا جس کے چہرے پر خشوع کا اثر ( نظر آتا ) تھا ، لوگوں میں سے ایک نے کہا : یہ اہل جنت میں سے ایک آدمی ہے ۔ اس آدمی نے دو رکعت نماز پڑھی جن میں اختصار کیا پھر چلاگیا ۔ میں بھی اس کے پیچھے گیا ، پھر وہ اپنے گھر میں داخل ہوگیا ، میں بھی ( اجازت ) لے کر اندر گیا ، پھر ہم نے آپس میں باتیں کیں ۔ جب وہ کچھ میرے ساتھ مانوس ہوگئے تو میں نے ان سے کہا : جب آپ ( کچھ دیر ) پہلے مسجد میں آئے تھے تو آپ کے متعلق ایک شخص نے اس طرح کہاتھا ۔ انھوں نے کہا : سبحان اللہ!کسی شخص کے لئے مناسب نہیں کہ وہ کوئی بات کہے جس کا اسے پوری طرح علم نہیں اورمیں تمھیں بتاتا ہوں کہ یہ کیونکر ہوا ۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں ایک خواب دیکھا اور وہ خواب آپ کے سامنے بیان کیا ۔ میں نے اپنے آپ کو ایک باغ میں دیکھا ۔ انھوں نے اس باغ کی وسعت ، اس کے پودوں اور اس کی شادابی کے بارے میں بتایا ۔ باغ کے وسط میں لوہے کا ایک ستون تھا ، اس کا نیچے کا حصہ زمین کے اندر تھا اور اسکے اوپر کا حصہ آسمان میں تھا ، اس کے اوپر کی جانب ایک حلقہ تھا ، مجھ سے کہا گیا : اس پرچڑھو ۔ میں نے کہا؛میں اس پر نہیں چڑھ سکتا ، پھر ایک منصف آیا ۔ ابن عون نے کہا : منصف ( سے مراد ) خادم ہےاس نے میرے پیچھے سے میرے کپڑے تھام لیے اور انھوں ( عبداللہ بن سلام رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) نے واضح کیا کہ اس نے اپنے ہاتھ سے انھیں پیچھے سےاوپر اٹھایا تو میں اوپر چڑھ گیا یہاں تک کہ میں ستون کی چوٹی پر پہنچ گیا اور حلقے کو پکڑ لیا تو مجھ سےکہا گیا : اس کو مضبوطی سے پکڑ رکھو اور وہ میرے ہاتھ ہی میں تھا کہ میں جاگ گیا ۔ میں نے یہ ( خواب ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بیان کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" وہ باغ اسلام ہے ۔ اور وہ ستون اسلام کا ستون ہے اور وہ حلقہ ( ایمان کا ) مضبوط حلقہ ہے اور تم موت تک اسلام پر رہو گے ۔ "" ( قیس بن عباد نے ) کہا : اور وہ شخص عبداللہ بن سلام رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَبَّادِ بْنِ جَبَلَةَ بْنِ أَبِي رَوَّادٍ، حَدَّثَنَا حَرَمِيُّ بْنُ عُمَارَةَ، حَدَّثَنَا قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، قَالَ قَالَ قَيْسُ بْنُ عُبَادٍ كُنْتُ فِي حَلْقَةٍ فِيهَا سَعْدُ بْنُ مَالِكٍ وَابْنُ عُمَرَ فَمَرَّ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلاَمٍ فَقَالُوا هَذَا رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ . فَقُمْتُ فَقُلْتُ لَهُ إِنَّهُمْ قَالُوا كَذَا وَكَذَا . قَالَ سُبْحَانَ اللَّهِ مَا كَانَ يَنْبَغِي لَهُمْ أَنْ يَقُولُوا مَا لَيْسَ لَهُمْ بِهِ عِلْمٌ إِنَّمَا رَأَيْتُ كَأَنَّ عَمُودًا وُضِعَ فِي رَوْضَةٍ خَضْرَاءَ فَنُصِبَ فِيهَا وَفِي رَأْسِهَا عُرْوَةٌ وَفِي أَسْفَلِهَا مِنْصَفٌ - وَالْمِنْصَفُ الْوَصِيفُ - فَقِيلَ لِيَ ارْقَهْ . فَرَقِيتُ حَتَّى أَخَذْتُ بِالْعُرْوَةِ فَقَصَصْتُهَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " يَمُوتُ عَبْدُ اللَّهِ وَهُوَ آخِذٌ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقَى " .
قرہ بن خالد نے ہمیں محمد بن سیرین سے حدیث سنائی انھوں نے کہا : قیس بن عباد نے کہا : میں ایک مجلس میں بیٹھا تھا جس میں حضرت سعد بن مالک اور حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی موجودتھے اتنے میں حضرت عبد اللہ بن سلام رضی اللہ تعالیٰ عنہ وہاں سے گزرے تو لو گوں نے کہا : یہ اہل جنت میں سے ایک شخص ہے میں اٹھا اور ان سے کہا : آپ کے متعلق لو گ اس اس طرح کہہ رہے تھے ، انھوں نے کہا : سبحان اللہ !انھیں زیبا نہیں کہ وہ ایسی بات کہیں جس کا انھیں ( پوری طرح ) علم نہ ہو ۔ میں نے ( خواب میں ) دیکھا کہ ایک ستون جو ایک سر سبز باغ کے اندر لا کر اس میں نصب کیا گیا تھا ۔ اس کی چوٹی پر ایک حلقہ تھا اور اس کے نیچے ایک منصف تھا ۔ اور منصف خدمت گا ر ہو تا ہے ۔ مجھ سے کہا : گیا : اس پر چڑھ جاؤ میں اس پر چڑھ گیا یہاں تک کہ حلقے کو پکڑ لیا ، پھر میں نے یہ خواب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بیان کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : عبد اللہ کی مو ت آئے گی تو اس نے عروہ ثقیٰ ( ایمان کا مضبوط حلقہ ) تھا م رکھا ہو گا ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، - وَاللَّفْظُ لِقُتَيْبَةَ - حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُسْهِرٍ، عَنْ خَرَشَةَ بْنِ الْحُرِّ، قَالَ كُنْتُ جَالِسًا فِي حَلْقَةٍ فِي مَسْجِدِ الْمَدِينَةِ - قَالَ - وَفِيهَا شَيْخٌ حَسَنُ الْهَيْئَةِ وَهُوَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلاَمٍ - قَالَ - فَجَعَلَ يُحَدِّثُهُمْ حَدِيثًا حَسَنًا - قَالَ - فَلَمَّا قَامَ قَالَ الْقَوْمُ مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَلْيَنْظُرْ إِلَى هَذَا . قَالَ فَقُلْتُ وَاللَّهِ لأَتْبَعَنَّهُ فَلأَعْلَمَنَّ مَكَانَ بَيْتِهِ . قَالَ فَتَبِعْتُهُ فَانْطَلَقَ حَتَّى كَادَ أَنْ يَخْرُجَ مِنَ الْمَدِينَةِ ثُمَّ دَخَلَ مَنْزِلَهُ - قَالَ - فَاسْتَأْذَنْتُ عَلَيْهِ فَأَذِنَ لِي فَقَالَ مَا حَاجَتُكَ يَا ابْنَ أَخِي قَالَ فَقُلْتُ لَهُ سَمِعْتُ الْقَوْمَ يَقُولُونَ لَكَ لَمَّا قُمْتَ مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَلْيَنْظُرْ إِلَى هَذَا . فَأَعْجَبَنِي أَنْ أَكُونَ مَعَكَ قَالَ اللَّهُ أَعْلَمُ بِأَهْلِ الْجَنَّةِ وَسَأُحَدِّثُكَ مِمَّ قَالُوا ذَاكَ إِنِّي بَيْنَمَا أَنَا نَائِمٌ إِذْ أَتَانِي رَجُلٌ فَقَالَ لِي قُمْ . فَأَخَذَ بِيَدِي فَانْطَلَقْتُ مَعَهُ - قَالَ - فَإِذَا أَنَا بِجَوَادَّ عَنْ شِمَالِي - قَالَ - فَأَخَذْتُ لآخُذَ فِيهَا فَقَالَ لِي لاَ تَأْخُذْ فِيهَا فَإِنَّهَا طُرُقُ أَصْحَابِ الشِّمَالِ - قَالَ - فَإِذَا جَوَادُّ مَنْهَجٌ عَلَى يَمِيِنِي فَقَالَ لِي خُذْ هَا هُنَا . فَأَتَى بِي جَبَلاً فَقَالَ لِي اصْعَدْ - قَالَ - فَجَعَلْتُ إِذَا أَرَدْتُ أَنْ أَصْعَدَ خَرَرْتُ عَلَى اسْتِي - قَالَ - حَتَّى فَعَلْتُ ذَلِكَ مِرَارًا - قَالَ - ثُمَّ انْطَلَقَ بِي حَتَّى أَتَى بِي عَمُودًا رَأْسُهُ فِي السَّمَاءِ وَأَسْفَلُهُ فِي الأَرْضِ فِي أَعْلاَهُ حَلْقَةٌ فَقَالَ لِيَ . اصْعَدْ فَوْقَ هَذَا . قَالَ قُلْتُ كَيْفَ أَصْعَدُ هَذَا وَرَأْسُهُ فِي السَّمَاءِ - قَالَ - فَأَخَذَ بِيَدِي فَزَجَلَ بِي - قَالَ - فَإِذَا أَنَا مُتَعَلِّقٌ بِالْحَلْقَةِ - قَالَ - ثُمَّ ضَرَبَ الْعَمُودَ فَخَرَّ - قَالَ - وَبَقِيتُ مُتَعَلِّقًا بِالْحَلْقَةِ حَتَّى أَصْبَحْتُ - قَالَ - فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَصَصْتُهَا عَلَيْهِ فَقَالَ " أَمَّا الطُّرُقُ الَّتِي رَأَيْتَ عَنْ يَسَارِكَ فَهِيَ طُرُقُ أَصْحَابِ الشِّمَالِ - قَالَ - وَأَمَّا الطُّرُقُ الَّتِي رَأَيْتَ عَنْ يَمِينِكَ فَهِيَ طُرُقُ أَصْحَابِ الْيَمِينِ وَأَمَّا الْجَبَلُ فَهُوَ مَنْزِلُ الشُّهَدَاءِ وَلَنْ تَنَالَهُ وَأَمَّا الْعَمُودُ فَهُوَ عَمُودُ الإِسْلاَمِ وَأَمَّا الْعُرْوَةُ فَهِيَ عُرْوَةُ الإِسْلاَمِ وَلَنْ تَزَالَ مُتَمَسِّكًا بِهَا حَتَّى تَمُوتَ " .
خرشہ بن حر سے روایت ہے ، انھوں نے کہا : میں مدینہ منورہ کی مسجد کے اندر ایک حلقے میں بیٹھا ہوا تھا ، کہا : اس میں خوبصورت ہیت والے ایک حسین وجمیل بزرگ بھی موجود تھے ۔ وہ عبداللہ بن سلام رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے ، کہا : انھوں نے ان لوگوں کو خوبصورت احادیث سنانی شروع کردیں ، کہا : جب وہ کھڑے ہوئے تو لوگوں نے کہا کہ جس کو ایک جنتی کا دیکھنا اچھا معلوم ہو ، وہ اس کو دیکھے ۔ میں نے ( اپنے دل میں ) کہا کہ اللہ کی قسم میں ان کے ساتھ جاؤں گا اور ان کا گھر دیکھوں گا ۔ پھر میں ان کے پیچھے ہوا ، وہ چلے ، یہاں تک کہ قریب ہوا کہ وہ شہر سے باہر نکل جائیں ، پھر وہ اپنے مکان میں گئے تو میں نے بھی اندر آنے کی اجازت چاہی ۔ انہوں نے اجازت دی ، پھر پوچھا کہ اے میرے بھتیجے! تجھے کیا کام ہے؟ میں نے کہا کہ جب آپ کھڑے ہوئے تو میں نے لوگوں کو سنا کہ جس کو ایک جنتی کا دیکھنا اچھا لگے ، وہ ان کو دیکھے تو مجھے آپ کے ساتھ رہنا اچھا معلوم ہوا ۔ انہوں نے کہا کہ جنت والوں کو اللہ تعالیٰ جانتا ہے اور میں تجھ سے لوگوں کے یہ کہنے کی وجہ بیان کرتا ہوں ۔ میں ایک دفعہ سو رہا تھا کہ خواب میں ایک شخص آیا اور اس نے کہا کہ کھڑا ہو ۔ پھر اس نے میرا ہاتھ پکڑا ، میں اس کے ساتھ چلا ، مجھے بائیں طرف کچھ راہیں ملیں تو میں نے ان میں جانا چاہا تو وہ بولا کہ ان میں مت جا ، یہ بائیں طرف والوں ( یعنی کافروں ) کی راہیں ہیں ۔ پھر دائیں طرف کی راہیں ملیں تو وہ شخص بولا کہ ان راہوں میں جا ۔ پس وہ مجھے ایک پہاڑ کے پاس لے آیا اور بولا کہ اس پر چڑھ ۔ میں نے اوپر چڑھنا چاہا تو پیٹھ کے بل گرا ۔ کئی بار میں نے چڑھنے کا قصد کیا لیکن ہر بار گرا ۔ پھر وہ مجھے لے چلا ، یہاں تک کہ ایک ستون ملا جس کی چوٹی آسمان میں تھی اور تہہ زمین میں ، اس کے اوپر ایک حلقہ تھا ۔ مجھ سے اس شخص نے کہا کہ اس ستون کے اوپر چڑھ جا ۔ میں نے کہا کہ میں اس پر کیسے چڑھوں کہ اس کا سرا تو آسمان میں ہے ۔ آخر اس شخص نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے اچھال دیا اور میں نے دیکھا کہ میں اس حلقہ کو پکڑے ہوئے لٹک رہا ہوں ۔ پھر اس شخص نے ستون کو مارا تو وہ گر پڑا اور میں صبح تک اسی حلقہ میں لٹکتا رہا ( اس وجہ سے کہ اترنے کا کوئی ذریعہ نہیں رہا ) ۔ کہتے ہیں پس میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر اپنا خواب بیان کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو راہیں تو نے بائیں طرف دیکھیں ، وہ بائیں طرف والوں کی راہیں ہیں اور جو راہیں دائیں طرف دیکھیں ، وہ دائیں طرف والوں کی راہیں ہیں ۔ اور وہ پہاڑ شہیدوں کا مقام ہے ، تو وہاں تک نہ پہنچ سکے گا اور ستون ، اسلام کا ستون ہے اور حلقہ ، اسلام کا حلقہ ہے اور تو مرتے دم تک اسلام پر قائم رہے گا ۔ ( اور جب اسلام پر خاتمہ ہو تو جنت کا یقین ہے ، اس وجہ سے لوگ مجھے جنتی کہتے ہیں)
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ، كُلُّهُمْ عَنْ سُفْيَانَ، قَالَ عَمْرٌو حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ عُمَرَ، مَرَّ بِحَسَّانَ وَهُوَ يُنْشِدُ الشِّعْرَ فِي الْمَسْجِدِ فَلَحَظَ إِلَيْهِ فَقَالَ قَدْ كُنْتُ أُنْشِدُ وَفِيهِ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنْكَ . ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَى أَبِي هُرَيْرَةَ فَقَالَ أَنْشُدُكَ اللَّهَ أَسَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " أَجِبْ عَنِّي اللَّهُمَّ أَيِّدْهُ بِرُوحِ الْقُدُسِ " . قَالَ اللَّهُمَّ نَعَمْ .
سفیان بن عیینہ نے زہری سے ، انھوں نے سعید ( بن مسیب ) سے ، انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سیدنا حسان رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے اور وہ مسجد میں شعر پڑھ رہے تھے ( معلوم ہوا کہ اشعار جو اسلام کی تعریف اور کافروں کی برائی یا جہاد کی ترغیب میں ہو مسجد میں پڑھنا درست ہے ) ۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان کی طرف ( غصہ سے ) دیکھا ۔ سیدنا حسان رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں تو مسجد میں ( اس وقت بھی ) شعر پڑھتا تھا جب تم سے بہتر شخص ( یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ) موجود تھے ۔ پھر سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی طرف دیکھا اور کہا کہ میں تمہیں اللہ کی قسم دیتا ہوں کہ تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ اے حسان! میری طرف سے جواب دے ، اے اللہ اس کی روح القدس ( جبرائیل علیہ السلام ) سے مدد کر ۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا ہاں میں نے سنا ہے یا اللہ تو جانتا ہے ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَاهُ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ، أَنَّ حَسَّانَ، قَالَ فِي حَلْقَةٍ فِيهِمْ أَبُو هُرَيْرَةَ أَنْشُدُكَ اللَّهَ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ أَسَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . فَذَكَرَ مِثْلَهُ .
معمر نے زہری سے ، انھوں نے ابن مسیب سے روایت کی کہ حضرت حسان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک حلقے میں کہا جس میں ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ موجود تھے : ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ !میں آپ کو اللہ کی قسم دیتا ہوں ، کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا؟اس کے بعد اس کے مانند یوں بیان کیا ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ، أَخْبَرَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّهُ سَمِعَ حَسَّانَ بْنَ ثَابِتٍ الأَنْصَارِيَّ، يَسْتَشْهِدُ أَبَا هُرَيْرَةَ أَنْشُدُكَ اللَّهَ هَلْ سَمِعْتَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " يَا حَسَّانُ أَجِبْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم اللَّهُمَّ أَيِّدْهُ بِرُوحِ الْقُدُسِ " . قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ نَعَمْ .
زہری نے کہا : مجھے ابو سلمہ بن عبدالرحمان نے بتایا کہ انھوں نے حضرت حسان بن ثابت انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، وہ حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے گواہی طلب کررہے تھے ، ( کہہ رہے تھے : ) میں تمھارے سامنے اللہ کا نام لیتا ہوں! کیاتم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سناتھا ۔ " حسان!اللہ کےرسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے جواب دو ۔ اےاللہ!روح القدس کے ذریعے سے اس کی تائید فرما! " ؟ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : ہاں ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَدِيٍّ، - وَهُوَ ابْنُ ثَابِتٍ - قَالَ سَمِعْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ لِحَسَّانَ بْنِ ثَابِتٍ " اهْجُهُمْ أَوْ هَاجِهِمْ وَجِبْرِيلُ مَعَكَ " .
معاذ نے کہا : ہمیں شعبہ نے عدی بن ثابت سے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : میں نے حضرت براء بن عاذب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، انھوں نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے یہ فرماتے ہوئے سنا : " ان ( کافروں ) کی ہجو کرو ، یا ( فرمایا : ) ہجو میں ان کا مقابلہ کرو جبرائیل تمھارے ساتھ ہیں ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، ح وَحَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ، كُلُّهُمْ عَنْ شُعْبَةَ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ .
محمد بن جعفر غندر اور عبدا الرحمان ( بن مہدی ) دونوں نے شعبہ سے اسی سندک سا تھ اسی کے مانند روایت کی ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ حَسَّانَ بْنَ ثَابِتٍ، كَانَ مِمَّنْ كَثَّرَ عَلَى عَائِشَةَ فَسَبَبْتُهُ فَقَالَتْ يَا ابْنَ أُخْتِي دَعْهُ فَإِنَّهُ كَانَ يُنَافِحُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم .
ابو اسامہ نے ہشام ( بن عروہ ) سے ، انھوں نے اپنے والد سے روایت کی کہ حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان لوگوں میں سے تھے جنھوں نے ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے متعلق بہت کچھ کہا تھا ( تہمت لگانے والوں کے ساتھ شامل ہوگئے تھے ) ، میں نے ان کو برا بھلا کہا توحضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا : بھتیجے!ان کو کچھ نہ کہو ، کیونکہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے کافروں کو جواب دیتے تھے ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَاهُ عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، عَنْ هِشَامٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ .
عبدہ نے ہشام سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنِي بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ، - يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ - عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِي الضُّحَى، عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ وَعِنْدَهَا حَسَّانُ بْنُ ثَابِتٍ يُنْشِدُهَا شِعْرًا يُشَبِّبُ بِأَبْيَاتٍ لَهُ فَقَالَ حَصَانٌ رَزَانٌ مَا تُزَنُّ بِرِيبَةٍ وَتُصْبِحُ غَرْثَى مِنْ لُحُومِ الْغَوَافِلِ فَقَالَتْ لَهُ عَائِشَةُ لَكِنَّكَ لَسْتَ كَذَلِكَ . قَالَ مَسْرُوقٌ فَقُلْتُ لَهَا لِمَ تَأْذَنِينَ لَهُ يَدْخُلُ عَلَيْكِ وَقَدْ قَالَ اللَّهُ { وَالَّذِي تَوَلَّى كِبْرَهُ مِنْهُمْ لَهُ عَذَابٌ عَظِيمٌ} فَقَالَتْ فَأَىُّ عَذَابٍ أَشَدُّ مِنَ الْعَمَى إِنَّهُ كَانَ يُنَافِحُ أَوْ يُهَاجِي عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم .
محمد بن جعفر نے شعبہ سے ، انھوں نے سلیمان سے ، انھوں نے ابو ضحیٰ سے ، انھوں نے مسروق سے روایت کی کہا : کہ میں ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا تو ان کے پاس سیدنا حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ بیٹھے اپنی غزل میں سے ایک شعر سنا رہے تھے جو چند بیتوں کی انہوں نے کہی تھی ۔ وہ شعر یہ ہے کہ : ”پاک ہیں اور عقل والی ان پہ کچھ تہمت نہیں ۔ صبح کو اٹھتی ہیں بھوکی غافلوں کے گوشت سے“ ( یعنی کسی کی غیبت نہیں کرتیں کیونکہ غیبت کرنا گویا اس کا گوشت کھانا ہے ) ۔ ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے سیدنا حسان رضی اللہ عنہ سے کہا کہ لیکن تو ایسا نہیں ہے ( یعنی تو لوگوں کی غیبت کرتا ہے ) ۔ مسروق نے کہا کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے کہا کہ آپ حسان رضی اللہ عنہ کو اپنے پاس کیوں آنے دیتی ہو حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان کی شان میں فرمایا ہے کہ ”وہ شخص جس نے ان میں سے بڑی بات ( یعنی ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا پر تہمت لگانے ) کا بیڑا اٹھایا اس کے واسطے بڑا عذاب ہے ۔ ( حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ ان لوگوں میں شریک تھے جنہوں نے ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا پر تہمت لگائی تھی ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو حد لگائی ) ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ اس سے زیادہ عذاب کیا ہو گا کہ وہ نابینا ہو گیا ہے اور کہا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے کافروں کی جوابدہی کرتا تھا یا ہجو کرتا تھا ۔ ( اس لئے اس کو اپنے پاس آنے کی اجازت دیتی ہوں ) ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَاهُ ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ شُعْبَةَ، فِي هَذَا الإِسْنَادِ وَقَالَ قَالَتْ كَانَ يَذُبُّ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . وَلَمْ يَذْكُرْ حَصَانٌ رَزَانٌ .
ابن ابی عدی نے شعبہ سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی اورکہا : حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا : حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے مدافعت کرتے تھے ، انھوں نے ( حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی مدح والاحصہ ) " وہ پاکیزہ ہیں ، عقل مند ہیں " بیان نہیں کیا ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّاءَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ قَالَ حَسَّانُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ائْذَنْ لِي فِي أَبِي سُفْيَانَ قَالَ " كَيْفَ بِقَرَابَتِي مِنْهُ " . قَالَ وَالَّذِي أَكْرَمَكَ لأَسُلَّنَّكَ مِنْهُمْ كَمَا تُسَلُّ الشَّعَرَةُ مِنَ الْخَمِيرِ . فَقَالَ حَسَّانُ وَإِنَّ سَنَامَ الْمَجْدِ مِنْ آلِ هَاشِمٍ بَنُو بِنْتِ مَخْزُومٍ وَوَالِدُكَ الْعَبْدُ قَصِيدَتَهُ هَذِهِ .
یحییٰ بن زکریا نے ہمیں ہشام بن عروہ سے خبر دی ، انھوں نے اپنے والد سے اور انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی کہ حضرت حسان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی : اللہ کےرسول صلی اللہ علیہ وسلم !مجھے ابو سفیان ( مغیرہ بن حارث بن عبدالمطلب ) کی ہجو کرنے کی اجازت دیجئے ، آپ نے فرمایا : "" اس کے ساتھ میری جو قرابت ہے اس کا کیا ہوگا؟ "" حضرت حسان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نےکہا : اس ذات کی قسم جس نے آپ کو عزت عطا فرمائی!میں آپ کو ان میں سے اس طرح باہرنکال لوں گا جس طرح خمیر سے بال کو نکال لیا جاتاہے ، پھر حضرت حسان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ قصیدہ کہا : اور آل ہاشم میں سے عظمت ومجد کی چوٹی پر وہ ہیں جو بنت مخزوم ( فاطمہ بنت عمرو بن عابد بن عمران بن مخزوم ) کی اولاد ہیں ( ابو طالب ، عبداللہ اور زبیر ) اورتیرا باپ تو غلام ( کنیز کا بیٹا ) تھا ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، بِهَذَا الإِسْنَادِ قَالَتِ اسْتَأْذَنَ حَسَّانُ بْنُ ثَابِتٍ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فِي هِجَاءِ الْمُشْرِكِينَ . وَلَمْ يَذْكُرْ أَبَا سُفْيَانَ وَقَالَ بَدَلَ الْخَمِيرِ الْعَجِينِ .
عبدہ نے ہشام بن عروہ سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا : حسان بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مشرکین کی ہجو کرنے کی اجازت مانگی ۔ اور ( عبدہ نے ) ابو سفیان کا ذکر نہیں کیا اور ۔ ۔ ۔ خمیر کے بجائے ۔ گندھا ہوا آٹا کہا ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي، حَدَّثَنِي خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي هِلاَلٍ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " اهْجُوا قُرَيْشًا فَإِنَّهُ أَشَدُّ عَلَيْهَا مِنْ رَشْقٍ بِالنَّبْلِ " . فَأَرْسَلَ إِلَى ابْنِ رَوَاحَةَ فَقَالَ " اهْجُهُمْ " . فَهَجَاهُمْ فَلَمْ يُرْضِ فَأَرْسَلَ إِلَى كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ثُمَّ أَرْسَلَ إِلَى حَسَّانَ بْنِ ثَابِتٍ فَلَمَّا دَخَلَ عَلَيْهِ قَالَ حَسَّانُ قَدْ آنَ لَكُمْ أَنْ تُرْسِلُوا إِلَى هَذَا الأَسَدِ الضَّارِبِ بِذَنَبِهِ ثُمَّ أَدْلَعَ لِسَانَهُ فَجَعَلَ يُحَرِّكُهُ فَقَالَ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لأَفْرِيَنَّهُمْ بِلِسَانِي فَرْىَ الأَدِيمِ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ تَعْجَلْ فَإِنَّ أَبَا بَكْرٍ أَعْلَمُ قُرَيْشٍ بِأَنْسَابِهَا - وَإِنَّ لِي فِيهِمْ نَسَبًا - حَتَّى يُلَخِّصَ لَكَ نَسَبِي " . فَأَتَاهُ حَسَّانُ ثُمَّ رَجَعَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ لَخَّصَ لِي نَسَبَكَ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لأَسُلَّنَّكَ مِنْهُمْ كَمَا تُسَلُّ الشَّعَرَةُ مِنَ الْعَجِينِ . قَالَتْ عَائِشَةُ فَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ لِحَسَّانَ " إِنَّ رُوحَ الْقُدُسِ لاَ يَزَالُ يُؤَيِّدُكَ مَا نَافَحْتَ عَنِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ " . وَقَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " هَجَاهُمْ حَسَّانُ فَشَفَى وَاشْتَفَى " . قَالَ حَسَّانُ هَجَوْتَ مُحَمَّدًا فَأَجَبْتُ عَنْهُ وَعِنْدَ اللَّهِ فِي ذَاكَ الْجَزَاءُ هَجَوْتَ مُحَمَّدًا بَرًّا تَقِيًّا رَسُولَ اللَّهِ شِيمَتُهُ الْوَفَاءُ فَإِنَّ أَبِي وَوَالِدَهُ وَعِرْضِي لِعِرْضِ مُحَمَّدٍ مِنْكُمْ وِقَاءُ ثَكِلْتُ بُنَيَّتِي إِنْ لَمْ تَرَوْهَا تُثِيرُ النَّقْعَ مِنْ كَنَفَىْ كَدَاءِ يُبَارِينَ الأَعِنَّةَ مُصْعِدَاتٍ عَلَى أَكْتَافِهَا الأَسَلُ الظِّمَاءُ تَظَلُّ جِيَادُنَا مُتَمَطِّرَاتٍ تُلَطِّمُهُنَّ بِالْخُمُرِ النِّسَاءُ فَإِنْ أَعْرَضْتُمُو عَنَّا اعْتَمَرْنَا وَكَانَ الْفَتْحُ وَانْكَشَفَ الْغِطَاءُ وَإِلاَّ فَاصْبِرُوا لِضِرَابِ يَوْمٍ يُعِزُّ اللَّهُ فِيهِ مَنْ يَشَاءُ وَقَالَ اللَّهُ قَدْ أَرْسَلْتُ عَبْدًا يَقُولُ الْحَقَّ لَيْسَ بِهِ خَفَاءُ وَقَالَ اللَّهُ قَدْ يَسَّرْتُ جُنْدًا هُمُ الأَنْصَارُ عُرْضَتُهَا اللِّقَاءُ لَنَا فِي كُلِّ يَوْمٍ مِنْ مَعَدٍّ سِبَابٌ أَوْ قِتَالٌ أَوْ هِجَاءُ فَمَنْ يَهْجُو رَسُولَ اللَّهِ مِنْكُمْ وَيَمْدَحُهُ وَيَنْصُرُهُ سَوَاءُ وَجِبْرِيلٌ رَسُولُ اللَّهِ فِينَا وَرُوحُ الْقُدْسِ لَيْسَ لَهُ كِفَاءُ
ابو سلمہ بن عبدالرحمان نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ "" قریش کی ہجو کرو کیونکہ ہجو ان کو تیروں کی بوچھاڑ سے زیادہ ناگوار ہے ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو سیدنا ابن رواحہ رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا اور فرمایا کہ قریش کی ہجو کرو ۔ انہوں نے ہجو کی لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پسند نہ آئی ۔ پھر سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا ۔ پھر سیدنا حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا ۔ جب سیدنا حسان آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو انہوں نے کہا کہ تم پر وہ وقت آ گیا کہ تم نے اس شیر کو بلا بھیجا جو اپنی دم سے مارتا ہے ( یعنی اپنی زبان سے لوگوں کو قتل کرتا ہے گویا میدان فصاحت اور شعر گوئی کے شیر ہیں ) ۔ پھر اپنی زبان باہر نکالی اور اس کو ہلانے لگے اور عرض کیا کہ قسم اس کی جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سچا پیغمبر کر کے بھیجا ہے میں کافروں کو اپنی زبان سے اس طرح پھاڑ ڈالوں گا جیسے چمڑے کو پھاڑ ڈالتے ہیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے حسان! جلدی مت کر! کیونکہ ابوبکر رضی اللہ عنہ قریش کے نسب کو بخوبی جانتے ہیں اور میرا بھی نسب قریش ہی ہیں ، تو وہ میرا نسب تجھے علیحدہ کر دیں گے ۔ پھر حسان سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے ، پھر اس کے بعد لوٹے اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ! سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا نسب مجھ سے بیان کر دیا ہے ، قسم اس کی جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سچا پیغمبر کر کے بھیجا ، میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو قریش میں سے ایسا نکال لوں گا جیسے بال آٹے میں سے نکال لیا جاتا ہے ۔ ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم حسان سے فرماتے تھے کہ روح القدس ہمیشہ تیری مدد کرتے رہیں گے جب تک تو اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے جواب دیتا رہے گا ۔ اور ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ حسان نے قریش کی ہجو کی تو مومنوں کے دلوں کو شفاء دی اور کافروں کی عزتوں کو تباہ کر دیا ۔ حسان نے کہا کہ تو نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی برائی کی تو میں نے اس کا جواب دیا اور اللہ تعالیٰ اس کا بدلہ دے گا ۔ تو نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی برائی کی جو نیک اور پرہیزگار ہیں ، اللہ تعالیٰ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور وفاداری ان کی خصلت ہے ۔ میرے باپ دادا اور میری آبرو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی آبرو بچانے کے لئے قربان ہیں ۔ اگر کداء ( مکہ کے دروازہ پر گھاٹی ) کے دونوں جانب سے غبار اڑتا ہو نہ دیکھو تو میں اپنی جان کو کھوؤں ۔ ایسی اونٹنیاں جو باگوں پر زور کریں گی اور اپنی قوت اور طاقت سے اوپر چڑھتی ہوئیں ، ان کے کندھوں پر وہ برچھے ہیں جو باریک ہیں یا خون کی پیاسی ہیں اور ہمارے گھوڑے دوڑتے ہوئے آئیں گے ، ان کے منہ عورتیں اپنے دوپٹوں سے پونچھتی ہیں ۔ اگر تم ہم سے نہ بولو تو ہم عمرہ کر لیں گے اور فتح ہو جائے گی اور پردہ اٹھ جائے گا ۔ نہیں تو اس دن کی مار کے لئے صبر کرو جس دن اللہ تعالیٰ جس کو چاہے گا عزت دے گا ۔ اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میں نے ایک لشکر تیار کیا ہے جو انصار کا لشکر ہے ، جس کا کھیل کافروں سے مقابلہ کرنا ہے ۔ اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میں نے ایک بندہ بھیجا جو سچ کہتا ہے اس کی بات میں کچھ شبہہ نہیں ہے ۔ ہم تو ہر روز ایک نہ ایک تیاری میں ہیں ، گالی گلوچ ہے کافروں سے یا لڑائی ہے یا کافروں کی ہجو ہے ۔ تم میں سے جو کوئی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجو کرے اور ان کی تعریف کرے یا مدد کرے وہ سب برابر ہیں ۔ اور ( روح القدس ) جبریل علیہ السلام کو اللہ کی طرف سے ہم میں بھیجاگیا ہے اور روح القدس کا ( کائنات میں ) کوئی مد مقابل نہیں ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ الْيَمَامِيُّ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، عَنْ أَبِي كَثِيرٍ، يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ، قَالَ كُنْتُ أَدْعُو أُمِّي إِلَى الإِسْلاَمِ وَهِيَ مُشْرِكَةٌ فَدَعَوْتُهَا يَوْمًا فَأَسْمَعَتْنِي فِي رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَا أَكْرَهُ فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَنَا أَبْكِي قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي كُنْتُ أَدْعُو أُمِّي إِلَى الإِسْلاَمِ فَتَأْبَى عَلَىَّ فَدَعَوْتُهَا الْيَوْمَ فَأَسْمَعَتْنِي فِيكَ مَا أَكْرَهُ فَادْعُ اللَّهَ أَنْ يَهْدِيَ أُمَّ أَبِي هُرَيْرَةَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " اللَّهُمَّ اهْدِ أُمَّ أَبِي هُرَيْرَةَ " . فَخَرَجْتُ مُسْتَبْشِرًا بِدَعْوَةِ نَبِيِّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَلَمَّا جِئْتُ فَصِرْتُ إِلَى الْبَابِ فَإِذَا هُوَ مُجَافٌ فَسَمِعَتْ أُمِّي خَشْفَ قَدَمَىَّ فَقَالَتْ مَكَانَكَ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ . وَسَمِعْتُ خَضْخَضَةَ الْمَاءِ قَالَ - فَاغْتَسَلَتْ وَلَبِسَتْ دِرْعَهَا وَعَجِلَتْ عَنْ خِمَارِهَا فَفَتَحَتِ الْبَابَ ثُمَّ قَالَتْ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ أَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ - قَالَ - فَرَجَعْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَتَيْتُهُ وَأَنَا أَبْكِي مِنَ الْفَرَحِ - قَالَ - قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَبْشِرْ قَدِ اسْتَجَابَ اللَّهُ دَعْوَتَكَ وَهَدَى أُمَّ أَبِي هُرَيْرَةَ . فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ وَقَالَ خَيْرًا - قَالَ - قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ادْعُ اللَّهَ أَنْ يُحَبِّبَنِي أَنَا وَأُمِّي إِلَى عِبَادِهِ الْمُؤْمِنِينَ وَيُحَبِّبَهُمْ إِلَيْنَا - قَالَ - فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " اللَّهُمَّ حَبِّبْ عُبَيْدَكَ هَذَا - يَعْنِي أَبَا هُرَيْرَةَ وَأُمَّهُ - إِلَى عِبَادِكَ الْمُؤْمِنِينَ وَحَبِّبْ إِلَيْهِمُ الْمُؤْمِنِينَ " . فَمَا خُلِقَ مُؤْمِنٌ يَسْمَعُ بِي وَلاَ يَرَانِي إِلاَّ أَحَبَّنِي .
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : کہ میں اپنی والدہ کو اسلام کی طرف بلاتا تھا اور وہ مشرک تھی ۔ ایک دن میں نے اس کو مسلمان ہونے کو کہا تو اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں وہ بات سنائی جو مجھے ناگوار گزری ۔ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس روتا ہوا آیا اور عرض کیا کہ میں اپنی والدہ کو اسلام کی طرف بلاتا تھا وہ نہ مانتی تھی ، آج اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں مجھے وہ بات سنائی جو مجھے ناگوار ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ وہ ابوہریرہ کی ماں کو ہدایت دیدے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے اللہ! ابوہریرہ کی ماں کو ہدایت کر دے ۔ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا سے خوش ہو کر نکلا ۔ جب گھر پر آیا اور دروازہ پر پہنچا تو وہ بند تھا ۔ میری ماں نے میرے پاؤں کی آواز سنی ۔ اور بولی کہ ذرا ٹھہرا رہ ۔ میں نے پانی کے گرنے کی آواز سنی غرض میری ماں نے غسل کیا اور اپنا کرتہ پہن کر جلدی سے اوڑھنی اوڑھی ، پھر دروازہ کھولا اور بولی کہ اے ابوہریرہ! ”میں گواہی دیتی ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے اور میں گواہی دیتی ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں“ ۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس خوشی سے روتا ہوا آیا اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ! خوش ہو جائیے اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا قبول کی اور ابوہریرہ کی ماں کو ہدایت کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی تعریف اور اس کی صفت کی اور بہتر بات کہی ۔ میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! اللہ عزوجل سے دعا کیجئے کہ میری اور میری ماں کی محبت مسلمانوں کے دلوں میں ڈال دے ۔ اور ان کی محبت ہمارے دلوں میں ڈال دے ۔ تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے اللہ! اپنے بندوں کی یعنی ابوہریرہ اور ان کی ماں کی محبت اپنے مومن بندوں کے دلوں میں ڈال دے اور مومنوں کی محبت ان کے دلوں میں ڈال دے ۔ پھر کوئی مومن ایسا پیدا نہیں ہوا جس نے میرے بارے میں سنایا مجھے دیکھا ہواور میرےساتھ محبت نہ کی ہو ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ جَمِيعًا عَنْ سُفْيَانَ، قَالَ زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ الأَعْرَجِ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ إِنَّكُمْ تَزْعُمُونَ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، يُكْثِرُ الْحَدِيثَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَاللَّهُ الْمَوْعِدُ كُنْتُ رَجُلاً مِسْكِينًا أَخْدُمُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى مِلْءِ بَطْنِي وَكَانَ الْمُهَاجِرُونَ يَشْغَلُهُمُ الصَّفْقُ بِالأَسْوَاقِ وَكَانَتِ الأَنْصَارُ يَشْغَلُهُمُ الْقِيَامُ عَلَى أَمْوَالِهِمْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ يَبْسُطُ ثَوْبَهُ فَلَنْ يَنْسَى شَيْئًا سَمِعَهُ مِنِّي " . فَبَسَطْتُ ثَوْبِي حَتَّى قَضَى حَدِيثَهُ ثُمَّ ضَمَمْتُهُ إِلَىَّ فَمَا نَسِيتُ شَيْئًا سَمِعْتُهُ مِنْهُ .
سفیان بن عیینہ نے زہری سے ، انھوں نے اعرج سےروایت کی ، کہا : میں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : تم یہ سمجھتے ہو کہ ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بہت زیادہ احادیث بیان کرتاہے ، اللہ ہی کے پاس پیشی ہونی ہے ۔ میں ایک مسکین آدمی تھا ، پیٹ بھرجانے پر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لگا رہتاتھا ۔ مہاجروں کو بازار میں گہما گہمی مشغول رکھتی تھی اور انصار کو اپنے مال ( مویشی ) وغیرہ کی نگہداشت مشغول رکھتی تھی ، تو ( جب ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " کون اپنا کپڑا پھیلائے گا ، پھر جو چیز بھی اس نے مجھ سے سنی اسے ہرگز نہیں بھولے گا ۔ " تو میں نے اپنا کپڑا پھیلا دیا ، یہاں تک کہ آپ نے اپنی بات مکمل کی تو میں نے وہ ( کپڑا سمیٹ کر ) اپنے ساتھ لگا لیا ، پھر میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے جو کچھ سنا اس میں سے کوئی چیز کبھی نہ بھولا ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ يَحْيَى بْنِ خَالِدٍ، أَخْبَرَنَا مَعْنٌ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، كِلاَهُمَا عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي، هُرَيْرَةَ بِهَذَا الْحَدِيثِ غَيْرَ أَنَّ مَالِكًا، انْتَهَى حَدِيثُهُ عِنْدَ انْقِضَاءِ قَوْلِ أَبِي هُرَيْرَةَ وَلَمْ يَذْكُرْ فِي حَدِيثِهِ الرِّوَايَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم " مَنْ يَبْسُطْ ثَوْبَهُ " . إِلَى آخِرِهِ .
مالک بن انس اور معمر نے زہری سے ، انھوں نے اعرج سے اور انھوں نے ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے یہ حدیث روایت کی ، مگر مالک کی حدیث ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بات پر ختم ہو گئی ۔ انھوں نے اپنی حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کردہ یہ بات : " کون اپنا کپڑا پھیلا ئےگا : " آخر تک بیان نہیں کی ،
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى التُّجِيبِيُّ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ، شِهَابٍ أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ، حَدَّثَهُ أَنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ أَلاَ يُعْجِبُكَ أَبُو هُرَيْرَةَ جَاءَ فَجَلَسَ إِلَى جَنْبِ حُجْرَتِي يُحَدِّثُ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم يُسْمِعُنِي ذَلِكَ وَكُنْتُ أُسَبِّحُ فَقَامَ قَبْلَ أَنْ أَقْضِيَ سُبْحَتِي وَلَوْ أَدْرَكْتُهُ لَرَدَدْتُ عَلَيْهِ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَمْ يَكُنْ يَسْرُدُ الْحَدِيثَ كَسَرْدِكُمْ .
یو نس نے ابن شہاب سے روایت کی عروہ بن زبیر نے انھیں حدیث بیان کی کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا : کیا تمھیں ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ( ایسا کرتے ہوئے ) اچھے نہیں لگتے کہ وہ آئے میرے حجرے کے ساتھ بیٹھ گئےاور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے احادیث بیان کرنے لگے وہ مجھے ( یہ ) احادیث سنا رہے تھے ۔ میں نفل پڑھ رہی تھی تو وہ میرے نوافل ختم کرنے سے پہلے اٹھ گئے ۔ اگر میں ( نوافل ختم کرنے کے بعد ) انھیں مو جو د پا تی تو میں ان کو جواب میں یہ کہتی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تم لوگوں کی طرح تسلسل سے ایک کے بعد دوسری بات ارشاد نہیں فر ما تےتھے ۔ ابن شہاب نے بیان کیا : حضرت سعید بن مسیب نے روایت کیا کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : لو گ کہتے ہیں ۔ ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بہت احادیث بیان کرتے ہیں اور پیشی اللہ کے سامنے ہو نی ہے نیز وہ کہتے ہیں ، کیا وجہ ہے کہ مہاجرین اور انصار ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرح احادیث بیان نہیں کرتے ؟ میں تم کو اس کے بارے میں بتا تا ہوں ۔ میرے انصاری بھا ئیوں کو ان کی زمینوں کاکام مشغول رکھتا تھا اور میرے مہاجر بھا ئیوں کو بازار کی خریدو فروخت مصروف رکھتی تھی اور میں پیٹ بھرنے پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ لگا رہتا تھا ، جب دوسرے لو گ غائب ہو تے تو میں حاضر رہتا تھا اور جن باتوں کو وہ بھول جا تے تھے میں ان کو یا د رکھتا تھا ۔ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : "" تم میں سے کو ن شخص اپنا کپڑا بچھائے گا ۔ تا کہ میری یہ بات ( حدیث ) سنے پھر اس ( کپڑے ) کو اپنے سینے سے لگا لے تو اس نے جو کچھ سنا ہو گا اس میں سے کو ئی چیز نہیں بھولے گا ۔ "" میں نے ایک چادر جو میرے کندھوں پر تھی پھیلا دی یہاں تک کہ آپ اپنی بات سے فارغ ہوئے تو میں نے اس چادر کو اپنے سینے کے ساتھ اکٹھا کر لیا تو اس دن کے بعد کبھی کو ئی ایسی چیز نہیں بھولا جو آپ نے مجھ سے بیان فر ما ئی ۔ اگر دو آیتیں نہ ہو تیں ، جو اللہ نے اپنی کتاب میں نازل فر ما ئی ہیں تو میں کبھی کوئی چیز بیان نہ کرتا ( وہ آیتیں یہ ہیں ) "" وہ لو گ جو ہماری اتاری ہو ئی کھلی باتوں اور ہدایت کو چھپا تے ہیں ۔ ۔ ۔ دونوں آیتوں کے آخر تک ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
قَالَ ابْنُ شِهَابٍ وَقَالَ ابْنُ الْمُسَيَّبِ إِنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ يَقُولُونَ إِنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَدْ أَكْثَرَ وَاللَّهُ الْمَوْعِدُ وَيَقُولُونَ مَا بَالُ الْمُهَاجِرِينَ وَالأَنْصَارِ لاَ يَتَحَدَّثُونَ مِثْلَ أَحَادِيثِهِ وَسَأُخْبِرُكُمْ عَنْ ذَلِكَ إِنَّ إِخْوَانِي مِنَ الأَنْصَارِ كَانَ يَشْغَلُهُمْ عَمَلُ أَرَضِيهِمْ وَإِنَّ إِخْوَانِي مِنَ الْمُهَاجِرِينَ كَانَ يَشْغَلُهُمُ الصَّفْقُ بِالأَسْوَاقِ وَكُنْتُ أَلْزَمُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى مِلْءِ بَطْنِي فَأَشْهَدُ إِذَا غَابُوا وَأَحْفَظُ إِذَا نَسُوا وَلَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمًا " أَيُّكُمْ يَبْسُطُ ثَوْبَهُ فَيَأْخُذُ مِنْ حَدِيثِي هَذَا ثُمَّ يَجْمَعُهُ إِلَى صَدْرِهِ فَإِنَّهُ لَمْ يَنْسَ شَيْئًا سَمِعَهُ " . فَبَسَطْتُ بُرْدَةً عَلَىَّ حَتَّى فَرَغَ مِنْ حَدِيثِهِ ثُمَّ جَمَعْتُهَا إِلَى صَدْرِي فَمَا نَسِيتُ بَعْدَ ذَلِكَ الْيَوْمِ شَيْئًا حَدَّثَنِي بِهِ وَلَوْلاَ آيَتَانِ أَنْزَلَهُمَا اللَّهُ فِي كِتَابِهِ مَا حَدَّثْتُ شَيْئًا أَبَدًا { إِنَّ الَّذِينَ يَكْتُمُونَ مَا أَنْزَلْنَا مِنَ الْبَيِّنَاتِ وَالْهُدَى} إِلَى آخِرِ الآيَتَيْنِ .
شعیب نے زہری سے روایت کی ، انھوں نے کہا : مجھے سعید بن مسیب اور ابو سلمہ بن عبد الرحمٰن نے بتا یا کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نےکہا : تم لو گ یہ کہتے ہو کہ ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بہت احادیث بیان کرتا ہے ۔ آگے ان کی حدیث کی طرح ( بیان کیا ۔)
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ - وَاللَّفْظُ لِعَمْرٍو - قَالَ إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرُونَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ، عُيَيْنَةَ عَنْ عَمْرٍو، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُحَمَّدٍ، أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي رَافِعٍ، - وَهُوَ كَاتِبُ عَلِيٍّ قَالَ سَمِعْتُ عَلِيًّا، رضى الله عنه وَهُوَ يَقُولُ بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَا وَالزُّبَيْرَ وَالْمِقْدَادَ فَقَالَ " ائْتُوا رَوْضَةَ خَاخٍ فَإِنَّ بِهَا ظَعِينَةً مَعَهَا كِتَابٌ فَخُذُوهُ مِنْهَا " . فَانْطَلَقْنَا تَعَادَى بِنَا خَيْلُنَا فَإِذَا نَحْنُ بِالْمَرْأَةِ فَقُلْنَا أَخْرِجِي الْكِتَابَ . فَقَالَتْ مَا مَعِي كِتَابٌ . فَقُلْنَا لَتُخْرِجِنَّ الْكِتَابَ أَوْ لَتُلْقِيَنَّ الثِّيَابَ . فَأَخْرَجَتْهُ مِنْ عِقَاصِهَا فَأَتَيْنَا بِهِ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَإِذَا فِيهِ مِنْ حَاطِبِ بْنِ أَبِي بَلْتَعَةَ إِلَى نَاسٍ مِنَ الْمُشْرِكِينَ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ يُخْبِرُهُمْ بِبَعْضِ أَمْرِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " يَا حَاطِبُ مَا هَذَا " . قَالَ لاَ تَعْجَلْ عَلَىَّ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي كُنْتُ امْرَأً مُلْصَقًا فِي قُرَيْشٍ - قَالَ سُفْيَانُ كَانَ حَلِيفًا لَهُمْ وَلَمْ يَكُنْ مِنْ أَنْفُسِهَا - وَكَانَ مِمَّنْ كَانَ مَعَكَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ لَهُمْ قَرَابَاتٌ يَحْمُونَ بِهَا أَهْلِيهِمْ فَأَحْبَبْتُ إِذْ فَاتَنِي ذَلِكَ مِنَ النَّسَبِ فِيهِمْ أَنْ أَتَّخِذَ فِيهِمْ يَدًا يَحْمُونَ بِهَا قَرَابَتِي وَلَمْ أَفْعَلْهُ كُفْرًا وَلاَ ارْتِدَادًا عَنْ دِينِي وَلاَ رِضًا بِالْكُفْرِ بَعْدَ الإِسْلاَمِ . فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " صَدَقَ " . فَقَالَ عُمَرُ دَعْنِي يَا رَسُولَ اللَّهِ أَضْرِبْ عُنُقَ هَذَا الْمُنَافِقِ . فَقَالَ " إِنَّهُ قَدْ شَهِدَ بَدْرًا وَمَا يُدْرِيكَ لَعَلَّ اللَّهَ اطَّلَعَ عَلَى أَهْلِ بَدْرٍ فَقَالَ اعْمَلُوا مَا شِئْتُمْ فَقَدْ غَفَرْتُ لَكُمْ " . فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ { يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لاَ تَتَّخِذُوا عَدُوِّي وَعَدُوَّكُمْ أَوْلِيَاءَ} وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ أَبِي بَكْرٍ وَزُهَيْرٍ ذِكْرُ الآيَةِ وَجَعَلَهَا إِسْحَاقُ فِي رِوَايَتِهِ مِنْ تِلاَوَةِ سُفْيَانَ .
ابو بکر بن ابی شیبہ ، عمرو ناقد ، زہیر بن حرب ، اسحاق بن ابراہیم اور ابن ابی عمر نے ہمیں حدیث بیان کی ، الفاظ عمرو کے ہیں ۔ اسحاق نے کہا : ہمیں خبر دی ، دوسروں نے کہا : ہمیں سفیان بن عیینہ نے عمرو ( بن دینار ) سے حدیث بیان کی ، انھوں نے حسن بن محمد سے روایت کی ، انھوں نے کہا : مجھے عبیداللہ بن ابی رافع نے جو حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے کاتب تھے ، خبر دی ، انھوں نے کہا : میں نے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا : کہ ہمیں یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ، سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ اور سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ کو روضہ خاخ مقام پر بھیجا اور فرمایا کہ جاؤ اور وہاں تمہیں ایک عورت اونٹ پر سوار ملے گی ، اس کے پاس ایک خط ہے وہ اس سے لے کر آؤ ۔ ہم گھوڑے دوڑاتے ہوئے چلے اچانک وہ عورت ہمیں ملی تو ہم نے اس سے کہا کہ خط نکال ۔ وہ بولی کہ میرے پاس تو کوئی خط نہیں ہے ۔ ہم نے کہا کہ خط نکال یا اپنے کپڑے اتار ۔ پس اس نے وہ خط اپنے جوڑے سے نکالا ۔ ہم وہ خط رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے کر آئے ، اس میں لکھا تھا حاطب بن ابی بلتعہ کی طرف سے مکہ کے بعض مشرکین کے نام ( اور اس میں ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعض باتوں کا ذکر تھا ( ایک روایت میں ہے کہ حاطب نے اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تیاری اور فوج کی آمادگی اور مکہ کی روانگی سے کافروں کو مطلع کیا تھا ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے حاطب! تو نے یہ کیا کیا؟ وہ بولے کہ یا رسول اللہ! آپ جلدی نہ فرمائیے ۔ میں قریش سے ملا ہوا ایک شخص تھا یعنی ان کا حلیف تھا اور قریش میں سے نہ تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مہاجرین جو ہیں ان کے رشتہ دار قریش میں بہت ہیں جن کی وجہ سے ان کے گھربار کا بچاؤ ہوتا ہے تو میں نے یہ چاہا کہ میرا ناتا تو قریش سے نہیں ہے ، میں بھی ان کا کوئی کام ایسا کر دوں جس سے میرے اہل و عیال والوں کا بچاؤ کریں گے اور میں نے یہ کام اس وجہ سے نہیں کیا کہ میں کافر ہو گیا ہوں یا مرتد ہو گیا ہوں اور نہ مسلمان ہونے کے بعد کفر سے خوش ہو کر کیا ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ حاطب نے سچ کہا ۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہ کہ یا رسول اللہ! آپ چھوڑئیے میں اس منافق کی گردن ماروں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ تو بدر کی لڑائی میں شریک تھا اور تو نہیں جانتا کہ اللہ تعالیٰ نے بدر والوں کو جھانکا اور فرمایا کہ تم جو اعمال چاہو کرو ( بشرطیکہ کفر تک نہ پہنچیں ) میں نے تمہیں بخش دیا ۔ تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری کہ ”اے ایمان والو! میرے اور اپنے دشمنوں کو دوست مت بناؤ“ ۔ ( سورۃ : الممتحنہ : 1 ) ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، ح وَحَدَّثَنَا رِفَاعَةُ بْنُ الْهَيْثَمِ الْوَاسِطِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، - يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ - كُلُّهُمْ عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَبَا مَرْثَدٍ الْغَنَوِيَّ وَالزُّبَيْرَ بْنَ الْعَوَّامِ وَكُلُّنَا فَارِسٌ فَقَالَ " انْطَلِقُوا حَتَّى تَأْتُوا رَوْضَةَ خَاخٍ فَإِنَّ بِهَا امْرَأَةً مِنَ الْمُشْرِكِينَ مَعَهَا كِتَابٌ مِنْ حَاطِبٍ إِلَى الْمُشْرِكِينَ " . فَذَكَرَ بِمَعْنَى حَدِيثِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ عَنْ عَلِيٍّ .
ابو عبد الرحمٰن سلمی نے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ، حضرت ابو مرثد غنوی اور زبیر بن عوام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو روانہ کیا ہم سب گھوڑوں پر سوار تھے آپ نے فر ما یا : " تم خاخ کے باغ کی طرف روانہ ہو جاؤ ، وہاں ایک مشرک عورت ہو گئی ، اس کے پاس مشرکین کے نام حاطب کا ایک خط ہو گا ۔ " آگے عبید اللہ بن ابی رافع کی حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی حدیث کے ہم معنی بیان کیا ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ عَبْدًا، لِحَاطِبٍ جَاءَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَشْكُو حَاطِبًا فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَيَدْخُلَنَّ حَاطِبٌ النَّارَ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " كَذَبْتَ لاَ يَدْخُلُهَا فَإِنَّهُ شَهِدَ بَدْرًا وَالْحُدَيْبِيَةَ " .
حضرت جا بر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت حاطب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ایک غلام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور حضرت حاطب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ( کسی بات کی ) شکایت کرتے ہو ئے کہا : اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !حاطب ضرور دوزخ میں جا ئے گا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " تم جھوٹ کہتے ہو ۔ وہ دوزخ میں داخل نہیں ہو گا ۔ کیونکہ وہ بدر اور حدیبیہ میں شر یک ہوا ہے ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ أَخْبَرَتْنِي أُمُّ مُبَشِّرٍ، أَنَّهَا سَمِعَتِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ عِنْدَ حَفْصَةَ " لاَ يَدْخُلُ النَّارَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ مِنْ أَصْحَابِ الشَّجَرَةِ أَحَدٌ . الَّذِينَ بَايَعُوا تَحْتَهَا " . قَالَتْ بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ . فَانْتَهَرَهَا فَقَالَتْ حَفْصَةُ { وَإِنْ مِنْكُمْ إِلاَّ وَارِدُهَا} فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " قَدْ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ { ثُمَّ نُنَجِّي الَّذِينَ اتَّقَوْا وَنَذَرُ الظَّالِمِينَ فِيهَا جِثِيًّا}
ابو زبیر نے خبر دی کہا : انھوں نے جابر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، کہہ رہے تھے ۔ مجھےام مبشر رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے خبر دی کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے ہاں یہ فرما تے ہو ئے سنا ، " ان شاء اللہ اصحاب شجرہ ( درخت والوں ) میں سے کو ئی ایک بھی جس نے اس کے نیچے بیعت کی تھی جہنم میں داخل نہ ہو گا ۔ وہ ( حضرت حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ) کہنے لگیں ۔ اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیوں نہیں ! ( داخل تو ہوں گے ۔ ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں جھڑک دیا تو حضرت حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے آیت پڑھی : " تم میں سے کو ئی نہیں مگر اس پر وارد ہو نے والاہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " ( اس کے بعد ) اللہ تعا لیٰ نے یہ ( بھی ) فرمایا ہے ۔ پھر ہم تقویٰ اختیار کرنے والوں کو ( جہنم میں گرنے سے ) بچا لیں گے اور ظالموں کو اسی میں گھٹنوں کے بل پڑا رہنے دیں گے ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الأَشْعَرِيُّ، وَأَبُو كُرَيْبٍ جَمِيعًا عَنْ أَبِي أُسَامَةَ، قَالَ أَبُو عَامِرٍ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنَا بُرَيْدٌ، عَنْ جَدِّهِ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ كُنْتُ عِنْدَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ نَازِلٌ بِالْجِعْرَانَةِ بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ وَمَعَهُ بِلاَلٌ فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَجُلٌ أَعْرَابِيٌّ فَقَالَ أَلاَ تُنْجِزُ لِي يَا مُحَمَّدُ مَا وَعَدْتَنِي فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَبْشِرْ " . فَقَالَ لَهُ الأَعْرَابِيُّ أَكْثَرْتَ عَلَىَّ مِنْ " أَبْشِرْ " . فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى أَبِي مُوسَى وَبِلاَلٍ كَهَيْئَةِ الْغَضْبَانِ فَقَالَ " إِنَّ هَذَا قَدْ رَدَّ الْبُشْرَى فَاقْبَلاَ أَنْتُمَا " . فَقَالاَ قَبِلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ . ثُمَّ دَعَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِقَدَحٍ فِيهِ مَاءٌ فَغَسَلَ يَدَيْهِ وَوَجْهَهُ فِيهِ وَمَجَّ فِيهِ ثُمَّ قَالَ " اشْرَبَا مِنْهُ وَأَفْرِغَا عَلَى وُجُوهِكُمَا وَنُحُورِكُمَا وَأَبْشِرَا " . فَأَخَذَا الْقَدَحَ فَفَعَلاَ مَا أَمَرَهُمَا بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَنَادَتْهُمَا أُمُّ سَلَمَةَ مِنْ وَرَاءِ السِّتْرِ أَفْضِلاَ لأُمِّكُمَا مِمَّا فِي إِنَائِكُمَا . فَأَفْضَلاَ لَهَا مِنْهُ طَائِفَةً .
ابو بردہ نے حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا اور آپ نے مکہ اور مدینہ کے درمیان جعرانہ میں پڑاؤ کیا ہوا تھا ۔ حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی آپ کے ساتھ تھے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک بدو شخص آیا ، اس نے کہا : اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !آپ نے مجھ سے جو وعدہ کیا تھا اسے پورا نہیں کریں گے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " خوش ہو جاؤ ۔ " ( میں نے وعدہ کیا ہے تو پورا کروں گا ۔ ) اس بدو نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا : آپ مجھ سے بہت دفعہ " خوش ہو جاؤ ۔ " کہہ چکے ہیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غصے جیسی کیفیت میں ابو موسیٰ اور بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرف متوجہ ہو ئے اور فرما یا : " اس شخص نے میری بشارت کو مسترد کر دیا ہے اب تم دونوں میری بشارت کو قبول کرلو ۔ " ان دونوں نے کہا : اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !ہم نے قبول کی ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی کا ایک پیالہ منگوایا آپ نے اس پیالے میں اپنے ہاتھ اور اپنا چہرہ دھویا اور اس میں اپنے دہن مبارک کا پانی ڈالا پھر فر ما یا : " تم دونوں اسے پی لو اور اس کو اپنے اپنے چہرے اور سینے پر مل لو اور خوش ہو جاؤ ۔ " ان دونوں نے پیا لہ لے لیا اور جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو حکم دیا تھا اسی طرح کیا تو حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے پردے کے پیچھے سے ان کو آواز دے کر کہا : جو تمھا رے برتن میں ہے اس میں سے کچھ اپنی ماں کے لیے بھی بچا لو ، تو انھوں نے اس میں سے کچھ ان کے لیے بھی بچا لیا ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَرَّادٍ أَبُو عَامِرٍ الأَشْعَرِيُّ، وَأَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ - وَاللَّفْظُ لأَبِي عَامِرٍ - قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ بُرَيْدٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ لَمَّا فَرَغَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم مِنْ حُنَيْنٍ بَعَثَ أَبَا عَامِرٍ عَلَى جَيْشٍ إِلَى أَوْطَاسٍ فَلَقِيَ دُرَيْدَ بْنَ الصِّمَّةِ فَقُتِلَ دُرَيْدٌ وَهَزَمَ اللَّهُ أَصْحَابَهُ فَقَالَ أَبُو مُوسَى وَبَعَثَنِي مَعَ أَبِي عَامِرٍ - قَالَ - فَرُمِيَ أَبُو عَامِرٍ فِي رُكْبَتِهِ رَمَاهُ رَجُلٌ مِنْ بَنِي جُشَمٍ بِسَهْمٍ فَأَثْبَتَهُ فِي رُكْبَتِهِ فَانْتَهَيْتُ إِلَيْهِ فَقُلْتُ يَا عَمِّ مَنْ رَمَاكَ فَأَشَارَ أَبُو عَامِرٍ إِلَى أَبِي مُوسَى فَقَالَ إِنَّ ذَاكَ قَاتِلِي تَرَاهُ ذَلِكَ الَّذِي رَمَانِي . قَالَ أَبُو مُوسَى فَقَصَدْتُ لَهُ فَاعْتَمَدْتُهُ فَلَحِقْتُهُ فَلَمَّا رَآنِي وَلَّى عَنِّي ذَاهِبًا فَاتَّبَعْتُهُ وَجَعَلْتُ أَقُولُ لَهُ أَلاَ تَسْتَحْيِي أَلَسْتَ عَرَبِيًّا أَلاَ تَثْبُتُ فَكَفَّ فَالْتَقَيْتُ أَنَا وَهُوَ فَاخْتَلَفْنَا أَنَا وَهُوَ ضَرْبَتَيْنِ فَضَرَبْتُهُ بِالسَّيْفِ فَقَتَلْتُهُ ثُمَّ رَجَعْتُ إِلَى أَبِي عَامِرٍ فَقُلْتُ إِنَّ اللَّهَ قَدْ قَتَلَ صَاحِبَكَ . قَالَ فَانْزِعْ هَذَا السَّهْمَ فَنَزَعْتُهُ فَنَزَا مِنْهُ الْمَاءُ فَقَالَ يَا ابْنَ أَخِي انْطَلِقْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَقْرِئْهُ مِنِّي السَّلاَمَ وَقُلْ لَهُ يَقُولُ لَكَ أَبُو عَامِرٍ اسْتَغْفِرْ لِي . قَالَ وَاسْتَعْمَلَنِي أَبُو عَامِرٍ عَلَى النَّاسِ وَمَكَثَ يَسِيرًا ثُمَّ إِنَّهُ مَاتَ فَلَمَّا رَجَعْتُ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم دَخَلْتُ عَلَيْهِ وَهُوَ فِي بَيْتٍ عَلَى سَرِيرٍ مُرْمَلٍ وَعَلَيْهِ فِرَاشٌ وَقَدْ أَثَّرَ رِمَالُ السَّرِيرِ بِظَهْرِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَجَنْبَيْهِ فَأَخْبَرْتُهُ بِخَبَرِنَا وَخَبَرِ أَبِي عَامِرٍ وَقُلْتُ لَهُ قَالَ قُلْ لَهُ يَسْتَغْفِرْ لِي . فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِمَاءٍ فَتَوَضَّأَ مِنْهُ ثُمَّ رَفَعَ يَدَيْهِ ثُمَّ قَالَ " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِعُبَيْدٍ أَبِي عَامِرٍ " . حَتَّى رَأَيْتُ بَيَاضَ إِبْطَيْهِ ثُمَّ قَالَ " اللَّهُمَّ اجْعَلْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَوْقَ كَثِيرٍ مِنْ خَلْقِكَ أَوْ مِنَ النَّاسِ " . فَقُلْتُ وَلِي يَا رَسُولَ اللَّهِ فَاسْتَغْفِرْ . فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَيْسٍ ذَنْبَهُ وَأَدْخِلْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُدْخَلاً كَرِيمًا " . قَالَ أَبُو بُرْدَةَ إِحْدَاهُمَا لأَبِي عَامِرٍ وَالأُخْرَى لأَبِي مُوسَى .
برید نے ابو بردہ سے اور انھوں نے اپنے والد ( حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) سے روایت کی ، کہا : کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حنین کی لڑائی سے فارغ ہوئے تو سیدنا ابوعامر رضی اللہ عنہ کو لشکر دے کر اوطاس پر بھیجا تو ان کا مقابلہ درید بن الصمہ سے ہوا ۔ پس درید بن الصمہ قتل کر دیا گیا اور اس کے ساتھ والوں کو اللہ تعالیٰ نے شکست سے ہمکنار کر دیا ۔ سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ مجھے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوعامر رضی اللہ عنہ کے ساتھ بھیجا تھا ۔ پھر بنی جشم کے ایک شخص کا ایک تیر سیدنا ابوعامر رضی اللہ عنہ کو گھٹنے میں لگا اور وہ ان کے گھٹنے میں جم گیا ۔ میں ان کے پاس گیا اور پوچھا کہ اے چچا! تمہیں یہ تیر کس نے مارا؟ انہوں نے کہا کہ اس شخص نے مجھے قتل کیا اور اسی شخص نے مجھے تیر مارا ہے ۔ سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے اس شخص کا پیچھا کیا اور اس سے جا ملا ۔ اس نے جب مجھے دیکھا تو پیٹھ موڑ کر بھاگ کھڑا ہو ۔ میں اس کے پیچھے ہوا اور میں نے کہنا شروع کیا کہ اے بےحیاء ! کیا تو عرب نہیں ہے؟ ٹھہرتا نہیں ہے؟ پس وہ رک گیا ۔ پھر میرا اس کا مقابلہ ہوا ، اس نے بھی وار کیا اور میں نے بھی وار کیا ، آخر میں نے اس کو تلوار سے مار ڈالا ۔ پھر لوٹ کر ابوعامر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا کہ اللہ نے تمہارے قاتل کو قتل کروا دیا ۔ ابوعامر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اب یہ تیر نکال لے میں نے اس کو نکالا تو تیر کی جگہ سے پانی نکلا ( خون نہ نکلا شاید وہ تیر زہر آلود تھا ) ۔ ابوعامر نے کہا کہ اے میرے بھتیجے! تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جا کر میری طرف سے سلام کہہ اور یہ کہنا کہ ابوعامر کی بخشش کی دعا کیجئے ۔ سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ابوعامر رضی اللہ عنہ نے مجھے لوگوں کا سردار کر دیا اور وہ تھوڑی دیر زندہ رہے ، پھر فوت ہو گئے ۔ جب میں لوٹ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک کوٹھڑی میں بان کے ایک پلنگ پر تھے جس پر فرش تھا اور بان کا نشان آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیٹھ اور پہلوؤں پر بن گیا تھا ۔ میں نے کہا کہ ابوعامر نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ درخواست کی تھی کہ میرے لئے دعا کیجئے ۔ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی منگوایا کر وضو کیا ، پھر دونوں ہاتھ اٹھائے اور فرمایا کہ اے اللہ! عبید ابوعامر کو بخش دے ( عبید بن سلیم ان کا نام تھا ) یہاں تک کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دونوں بغلوں کی سفیدی دیکھی ۔ پھر فرمایا کہ اے اللہ! ابوعامر کو قیامت کے دن بہت سے لوگوں کا سردار کرنا ۔ میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! اور میرے لئے بھی بخشش کی دعا فرمائیے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے اللہ! عبداللہ بن قیس کے گناہ بھی بخش دے اور قیامت کے دن اس کو عزت کے مکان میں لے جا ۔ ابوبردہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ایک دعا ابوعامر کے لئے کی اور ایک دعا ابوموسیٰ کے لئے کی ۔ رضی اللہ عنہما ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنَا بُرَيْدٌ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنِّي لأَعْرِفُ أَصْوَاتَ رُفْقَةِ الأَشْعَرِيِّينَ بِالْقُرْآنِ حِينَ يَدْخُلُونَ بِاللَّيْلِ وَأَعْرِفُ مَنَازِلَهُمْ مِنْ أَصْوَاتِهِمْ بِالْقُرْآنِ بِاللَّيْلِ وَإِنْ كُنْتُ لَمْ أَرَ مَنَازِلَهُمْ حِينَ نَزَلُوا بِالنَّهَارِ وَمِنْهُمْ حَكِيمٌ إِذَا لَقِيَ الْخَيْلَ - أَوْ قَالَ الْعَدُوَّ - قَالَ لَهُمْ إِنَّ أَصْحَابِي يَأْمُرُونَكُمْ أَنْ تَنْظُرُوهُمْ " .
ابو بردہ نے حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " اشعری رفقاء جب رات کے وقت گھروں میں داخل ہو تے ہیں تو میں ان کے قرآن مجید پڑھنے کی آواز کو پہچان لیتا ہوں اور رات کو ان کے قرآن پڑھنے کی آواز سے ان کے گھروں کو بھی پہچان لیتا ہوں ، چاہے دن میں ان کے اپنے گھروں میں آنے کے وقت میں نے ان کے گھروں کو نہ دیکھا ہو ۔ ان میں سے ایک حکیم ( حکمت و دانائی والاشخص ) ہے جب وہ گھڑسواروں ۔ ۔ ۔ یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : دشمنوں ۔ ۔ ۔ سے ملا قات کرتا ہے تو ان سے کہتا ہے ۔ میرے ساتھی تمھیں حکم دے رہے ہیں کہ تم ان کا انتظار کرو ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الأَشْعَرِيُّ، وَأَبُو كُرَيْبٍ جَمِيعًا عَنْ أَبِي أُسَامَةَ، قَالَ أَبُو عَامِرٍ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنِي بُرَيْدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ جَدِّهِ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ الأَشْعَرِيِّينَ إِذَا أَرْمَلُوا فِي الْغَزْوِ أَوْ قَلَّ طَعَامُ عِيَالِهِمْ بِالْمَدِينَةِ جَمَعُوا مَا كَانَ عِنْدَهُمْ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ ثُمَّ اقْتَسَمُوهُ بَيْنَهُمْ فِي إِنَاءٍ وَاحِدٍ بِالسَّوِيَّةِ فَهُمْ مِنِّي وَأَنَا مِنْهُمْ " .
ابو بردہ نے حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا : اشعر ی لوگ جب جہاد میں رسد کی کمی کا شکار ہو جا ئیں یا مدینہ میں ان کے اہل وعیال کا کھا نا کم پڑ جائے تو ان کے پاس جو کچھ بچا ہو اسے ایک کپڑے میں اکٹھا کر لیتے ہیں ، پھر ایک ہی برتن سے اس کو آپس میں برابر تقسیم کر لیتے ہیں ۔ وہ مجھ سے ہیں اور میں ان سے ہوں ۔ ( وہ میرے قریب ہیں اور میں ان سے قربت رکھتا ہوں ۔)
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح